اسلام آباد :چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں، دونوں ممالک اپنی آہنی دوستی اور ہمہ جہت تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔


عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف، وسیع عالمی وژن اور اعلیٰ سفارتی بصیرت کے باعث بین الاقوامی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے کثیرالجہتی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت کرتے ہوئے خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کے قومی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کیا اور بین الاقوامی و علاقائی امور پر پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا۔


چینی سفیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 75 برسوں کا پاک چین تعلقات کا شاندار سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ہر مشکل وقت میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں چین پاکستان عملی تعاون کو ہمیشہ اہمیت دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی سطح پر بھی قریبی رابطہ اور تعاون جاری ہے۔


جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ مارچ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے مذاکرات کیے، جس کے دوران خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی اقدام جاری کیا۔


انہوں نے کہا کہ ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں چین کی میزبانی میں ہونے والی گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو سے متعلق اعلیٰ سطحی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت اور عالمی امن و ترقی کے لیے ان کے اقدامات کو سراہا۔


چینی سفیر نے کہا کہ ایک نئے تاریخی موڑ پر چین پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کی آہنی دوستی اور ہمہ جہت تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔


انہوں نے کہا کہ چین صدر شی جن پنگ اور پاکستانی قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عملدرآمد کرے گا اور ’’نئے دور میں چین پاکستان مشترکہ مستقبل کے مزید قریبی معاشرے کی تعمیر‘‘ کے ایکشن پلان پر ٹھوس پیشرفت کی جائے گی۔


جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ چین سیاسی باہمی اعتماد کی قوت کو تعاون اور ترقی کے لیے پائیدار محرک میں تبدیل کرے گا، جبکہ عملی تعاون کو مزید گہرا کرتے ہوئے باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی کے نتائج حاصل کیے جائیں گے۔


انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت اور کان کنی کے تین ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے جدید اور بہتر ورژن کی تیاری میں بھی تیزی لائی جائے گی تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کا تعاون مزید وسیع اور گہرا ہو۔


چینی سفیر نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے مزید ’’چھوٹے مگر بہترین‘‘ منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ بلوچستان میں صاف پانی کے 100 مراکز کی تعمیر، 1,000 سمارٹ کلاس رومز کی اپ گریڈیشن اور ایک لاکھ اسکول کٹس کی تقسیم کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس، نوجوانوں اور خواتین کے درمیان تبادلوں کو بھی وسعت دی جائے گی تاکہ پاک چین دوستی کی بنیاد مزید مستحکم ہو۔


چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان دفاع، سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کریں گے، ہر قسم کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور دونوں ممالک کی ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے مضبوط سکیورٹی تعاون یقینی بنایا جائے گا۔