اسلام آباد(ربنواز گوندل )تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کا بھاری بوجھ اٹھانے میں سب سے آگے نکل گیا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے سے 144 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی سالانہ انکم ٹیکس ادائیگی 391 ارب روپے سے بڑھ کر 629 ارب روپے ہوگئی، دو سال کے دوران تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی میں 238 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولی میں 10.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تنخواہ دار طبقے نے ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ شعبوں سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔
دوسری جانب رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے صرف 35.2 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیکس رعایت کے باعث رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس وصولی میں 22 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کی گئی۔
بجٹ میں جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد جبکہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردیا گیا۔
حکام کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصولی میں 42 فیصد جبکہ جائیداد کی خریداری پر انکم ٹیکس وصولی میں 31 فیصد کمی ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز نے مجموعی طور پر صرف 54 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔
حکام کے مطابق تھوک اور خوردہ فروشوں سے ودہولڈنگ ٹیکس وصولی میں صرف 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تھوک فروشوں کی ٹیکس ادائیگی میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولی میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں