اسلام آباد(ایس اعوان) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں آن لائن مالیاتی فراڈ، ڈپلیکیٹ سم کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے، سائبر کرائمز اور صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی ملاحوں کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ این سی سی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران ادارے کو آن لائن مالیاتی فراڈ کی 2 لاکھ 27 ہزار 757 شکایات موصول ہوئیں، جن میں رپورٹ ہونے والے مالیاتی نقصان کی مالیت 8 ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ ادارے نے 2 ارب 86 کروڑ روپے واگزار کرائے ہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی ارکان نے آن لائن فراڈ میں اضافے، شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال اور مالیاتی اداروں و ٹیلی کام کمپنیوں کے حفاظتی نظام پر سوالات اٹھائے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ آج کل ڈیجیٹل فراڈ کے متعدد واقعات سامنے آ رہے ہیں اور انہیں خود بھی کاروباری اکاؤنٹس ہیک ہونے اور مشکوک پیغامات موصول ہونے کی شکایات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ایک ایسی کال بھی موصول ہوئی جس کے ذریعے کال کرنے والے کو ان کے گھر کے پتے تک کا علم تھا۔
چیئرپرسن نے سوال اٹھایا کہ جب متعلقہ اداروں کے پاس فراڈ کرنے والوں کے فون نمبرز موجود ہیں تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے ڈی جی این سی سی آئی اے علی ناصر رضوی کی اجلاس میں عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ آن لائن مالیاتی فراڈ کے معاملے پر بریفنگ دی جائے۔
اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری نے بتایا کہ دو ارکان قومی اسمبلی فرحان چشتی اور شہریار مہر کے ساتھ مالیاتی فراڈ ہوا، جس میں مبینہ طور پر ان کے نام پر ڈپلیکیٹ سمیں جاری کی گئیں۔ ان کے مطابق دونوں ارکان کے موبائل فون اچانک بند یا غیر فعال ہو گئے، جس کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے نام پر دوسری سمیں جاری کی گئی تھیں۔
سینیٹر قرۃ العین مری نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ افراد سے نہ او ٹی پی لیا گیا اور نہ ہی پن کوڈ حاصل کیا گیا تو پھر ان کے اکاؤنٹس سے فراڈ کیسے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ٹیلی کام کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔
این سی سی آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ایسے معاملات میں دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، سینیٹر قرۃ العین مری نے اس جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا جا رہا۔
کمیٹی ارکان نے ڈپلیکیٹ سم کے اجرا کے طریقہ کار اور شناخت کی تصدیق کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔ حکام نے بتایا کہ ادارے کو سائبر جرائم کی شکایات موصول ہوتی ہیں اور وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے تحقیقات کرتا ہے۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق آن لائن مالیاتی فراڈ میں بینکنگ ٹرانزیکشنز اور او ٹی پی کے ذریعے ہونے والے فراڈ کی شکایات سب سے زیادہ موصول ہوئیں، جبکہ واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے فراڈ دوسرے نمبر پر رپورٹ ہوئے۔ حکام نے اکاؤنٹس ہیک کرنے اور کرپٹو پونزی اسکیموں کے ذریعے مالیاتی فراڈ کا بھی ذکر کیا، جبکہ ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور ای والٹس کے ذریعے رقوم چوری کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ سائبر کرائمز سے متعلق موصول ہونے والی شکایات میں 60 فیصد سے زیادہ مالیاتی فراڈ کے کیسز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ مختلف نوعیت کے سائبر جرائم کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم ہر معاملے میں متعلقہ اداروں کے کردار کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات موجود ہیں اور متعلقہ اداروں کو فراڈ ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے ایسے واقعات کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ڈیٹا کے غلط استعمال اور بیرونی عناصر کی جانب سے معلومات تک رسائی کے خدشات بھی اٹھائے۔
این سی سی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں گولڈن باکس کے نام سے رجسٹرڈ ایک کمپنی کے خلاف مالیاتی فراڈ کے معاملے میں کارروائی کی گئی۔ حکام کے مطابق اس کیس میں تقریباً 13 کروڑ روپے کا فراڈ ہوا تھا، جس میں سے پانچ کروڑ روپے تک کی رقم ریکور کرکے واپس کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ ادارہ سائبر پولیس کے طور پر کام کرتا ہے اور مالیاتی فراڈ کے معاملات میں دیگر متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چینی سفارت خانے سے متعلق ایک آن لائن اسکیم کے معاملے میں مبینہ طور پر اسکیمرز کے کمبوڈیا میں موجود ہونے کا سراغ ملا۔
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران مالیاتی فراڈ کے کیسز میں 1.6 ارب روپے ریکور کیے گئے۔ تاہم، کمیٹی ارکان نے فراڈ کی روک تھام، متاثرین کو فوری رقم واپس دلانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے، جو آن لائن شکایات کے معاملے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔ حکام کے مطابق پی ٹی اے نے 56 اداروں کو آن لائن پلیٹ فارمز فراہم کر رکھے ہیں اور شکایت موصول ہونے پر متعلقہ اکاؤنٹ بلاک کرنے کی کارروائی کی جاتی ہے۔
اس موقع پر سینیٹر قرۃ العین مری نے متعلقہ اداروں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر ادارہ یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے الگ ہو جاتا ہے کہ زیر بحث معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے زور دیا کہ مالیاتی فراڈ کے واقعات میں تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
کمیٹی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے کرپٹو سے متعلق ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ڈیجیٹل فراڈ کے پیچیدہ طریقوں کو سمجھنے اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر تحقیقات ضروری ہیں۔
اجلاس کے دوسرے حصے میں صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کے پاکستانی عملے کی طویل قید، تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی فراہمی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔
ڈائریکٹر شپنگ، ڈی جی پی ایس ونگ آصف ہارون نے کمیٹی کو بتایا کہ قزاقوں سے مذاکرات کے لیے ایک مقامی قبیلے کو ثالث مقرر کیا گیا تھا اور قبائلی عمائدین کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہوئے۔ مذاکرات کے دوران امید تھی کہ بحری جہاز اور عملے کو رہا کر دیا جائے گا، تاہم اغوا کاروں نے وعدے کے باوجود اپنی بات سے انحراف کیا۔
آصف ہارون کے مطابق جہاز کے عملے کے اہلخانہ سے متعدد مرتبہ ملاقاتیں کی گئیں اور ان کی شکایات متعلقہ وزارتوں اور وزارت خارجہ تک پہنچائی جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عملے کے اہلخانہ کے ساتھ آخری دن تک رابطہ برقرار رکھا گیا اور ملاقاتوں و رابطوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
کمیٹی ارکان نے مغوی ملاحوں کے اہلخانہ کو معاوضہ دینے اور متاثرین کی بحالی کے معاملات پر سوالات اٹھائے۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ زخمی عملے کے ارکان کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔ اس پر آصف ہارون نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے عملے کے ارکان کے لواحقین کو قواعد کے مطابق معاوضہ دیا جاتا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مغوی عملے کے ارکان کو تقریباً آٹھ سے نو ماہ بعد تنخواہیں ملنا شروع ہوئیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ طویل عرصے تک قید میں رہنے والے پاکستانی ملاحوں کو پہنچنے والی ذہنی اذیت اور ان کے اہلخانہ کو برداشت کرنا پڑنے والے دباؤ اور مشکلات کا بھی ازالہ ہونا چاہیے۔
کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ صومالی سفیر کو طلب کرکے سخت احتجاج کیوں نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ جہاز کے مالک کی توجہ عملے کی رہائی کے بجائے اپنے جہاز اور تیل کے تحفظ پر زیادہ مرکوز رہی۔
کمیٹی میں معاملے پر مزید غور کے لیے وزارت خارجہ کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں، متاثرین کے معاوضے اور بحالی کے اقدامات سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں