اسلام آباد(ایس اعوان)پاکستان میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد تین کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک بھر میں ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے ماہرین نفسیات کی شدید کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت صحت نے ذہنی امراض میں مبتلا افراد اور ماہرین نفسیات کی دستیابی سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں پاکستان میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد تین کروڑ تھی، جو 2023 میں بڑھ کر تین کروڑ 24 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس طرح چار سال کے دوران ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں 24 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ذہنی امراض میں مبتلا شہریوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات میں پاکستان میں ماہرین نفسیات کی دستیابی کی صورتحال بھی تشویش ناک قرار دی گئی ہے۔ ملک میں آبادی کے تناسب سے ماہرین نفسیات کی شدید کمی ہے اور فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہر دو لاکھ 45 ہزار سے زائد شہریوں کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔
صوبائی تفصیلات کے مطابق پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبر پختونخوا میں 122 جبکہ بلوچستان میں 44 ماہرین نفسیات رجسٹرڈ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ذہنی امراض کے بڑھتے ہوئے کیسز کے مقابلے میں ماہرین نفسیات کی محدود دستیابی ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں