اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پیر کے روز قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے سابق وزیراعظم کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کی مبینہ عدم تعمیل پر توہین عدالت کی درخواست کی جلد سماعت کی درخواست مسترد کردی۔ توہین عدالت کی درخواست کی سماعت جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ پہلے ہی 16 ستمبر کو کرے گا۔ سپریم کورٹ کے دفتر نے جلد سماعت کے لیے عظمیٰ خان کی دوسری درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کی کیس فکسیشن پالیسی کا حوالہ دیا، جس کے تحت معاملات اپنی باری کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ دفتر نے کہا کہ اسی زمرے کی 94 مجرمانہ اصل درخواستیں پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہیں اور فکسیشن پالیسی کے تحت ایسے مقدمات کو اپنی باری میں درج کرنے کی ضرورت ہے۔ عظمیٰ نے فوری سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ درخواست عمران خان کی صحت، زندگی، وقار اور جسمانی تندرستی سے متعلق ہے اور اس کا مقصد سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی استدعا کی تھی کہ سماعت موجودہ یا اگلے ہفتے کے دوران منعقد کی جائے، یہ کہتے ہوئے کہ 16 ستمبر تک کی تاخیر کو فکسیشن پالیسی سے جواز نہیں بنایا جا سکتا۔