قومی
بریکنگ نیوز
سردیوں میں تیل اور گیس کی قلت نہیں ہونے دیں گے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عام آدمی کے بجائے ریفائنریز پر ڈالا گیا ہے۔
اسلام آباد: کابینہ اجلاس سے خطاب کرتےوزیر اعظم نے کہا کہ ایل پی جی کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پرانے ‘ مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے’ جس نے ’کروڑوں اربوں کھربوں کمائے ہوں گے‘ اور ان اس کی امپورٹ کا انتظام مکمل مسابقت و شفافیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
انہوں نے وزیر پیڑولیم علی پرویز کو نئے نظام پر بریف کرنے کو کہا جنہوں نے اجلاس کو بتایا کہ یومیہ 7 ہزار ٹن ایل پی جی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سے 25 سو مقامی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی سدرن کی سبسیڈری، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور پارکو پرل گیس سمیت سرکاری ادارے بھی ایل پی جی درآمد کریں گے اور چھوٹے لاٹس میں اوپن آکشن کے ذریعے فروخت کی جائے گی جس کا خیال رہے کہ حکومت نے یکم نومبر کو ہی ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14 روپے 73 پیسے کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 3 ہزار 470 روپے 9 پیسے ہو گئی مگر یہ مقرر کردہ نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔دوسری جانب ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کا نیا پرائسنگ فارمولا مسترد کرتے ہوئے 16 نومبر سے ملک بھر میں ہڑتال کرنے اور ایل پی جی کی فروخت بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہیں آنے دیا اور ریفائنریز کو اپنے ’ونڈ فال پرافٹ‘ یعنی غیر معمولی منافع سے حصہ ڈالنے کا پابند بنایا ہے۔ حکومت نے گزشتہ 2 دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں لگ بھگ 9 روپے کمی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزارتِ توانائی، اوگرا اور متعلقہ کمیٹی کی بروقت حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس سے قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیا گیا۔ان نے مزید کہا تھا کہ ملک میں فیول سبسڈی پروگرام انتہائی کامیابی اور شفافیت سے جاری ہے، جس سے اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں 28 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے فیول پر دی جانے والی رعایت کے خاتمے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سبسڈی پروگرام ’دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا‘۔
انہوں نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے سبسڈی پروگرام میں ’گڑبڑ‘ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی، انہیں بند کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے کی ہدایت کی۔ ”میں وزیرِ پٹرولیم سے کہوں گا کہ ایسے پٹرول پمپس کو نہ صرف بند کریں، بلکہ ان پر بھاری جرمانہ عائد کریں تاکہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔“امن و امان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکج کی منظوری کا ذکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا سر کچل دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ’گروپ آف 24‘ کی چیئرمین شپ ملنے پر کابینہ کی طرف سے مبارکباد دی اور اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ ذمہ داری نہایت لائق ہاتھوں میں ہے۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے ”ایئر ٹو ایئر میزائل“ کے کامیاب تجربے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ان کی ٹیم اور متعلقہ اداروں کے سر باندھا۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں