اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جانے والوں اور دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کرنے والی سیاسی جماعتوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، شہدا کے خون سے غداری کی بات اب نہیں چلے گی اور پاکستان کے پرچم کو تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ملک میں جو کچھ آج ہو رہا ہے، اس کے بارے میں وہ پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج اور گرفتاریوں سمیت متعدد معاملات کی پیش گوئی انہوں نے پہلے ہی کر دی تھی۔ ان کے بقول، اب ثابت ہو گیا ہے کہ صوبہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں اور قانون کی حکمرانی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا میں موجود سول نظام نے کیا نتائج دیے، اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے اور نئے صوبائی سیٹ اپ کو اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اچھی کابینہ آئی ہے، جسے 180 روز میں اپنی کارکردگی دکھانا ہوگی، تاہم ابتدائی طور پر 60 روز میں بھی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ ان کے مطابق، وزیراعلیٰ فیصل کریم کنڈی کے پاس ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں اور اگر موجودہ نظام نتائج دینے میں ناکام رہا تو ٹیم تبدیل کرنا پڑے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے دہشت گردی میں دوبارہ اضافہ ہو، اس لیے کارکردگی کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر فوج نتائج دے رہی ہے تو اسے کھل کر کریڈٹ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مقبولیت کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اب کسی سیاسی جماعت کے پاس ایسا سیاسی سرمایہ نہیں رہا جس کی بنیاد پر وہ عوام کی حمایت کو اپنا مستقل حق سمجھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو نعروں کے بجائے کارکردگی اور عملی نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
گرفتاریوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ حالیہ گرفتاریاں باہمی مشاورت سے ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے آٹھ وزرا اسلام آباد میں ان کے پاس بیٹھے تھے۔ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے آٹھ صوبائی وزرا کو دہشت گردوں کے طور پر اپنے گھر میں پناہ دی تھی، جس پر فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کون دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔ ان کے مطابق سیاسی دہشت گردی، عسکری دہشت گردی اور معاشی دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی ہر صورت قائم ہوگی اور اس حوالے سے کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
بلوچستان میں گورنر راج نافذ نہ کرنے سے متعلق سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ وہاں دہشت گردی کے خلاف حکومت کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ صوبوں کے ٹوٹنے کی بات ہونی چاہیے اور نہ ہی اس حوالے سے غیر ضروری خدشات پیدا کیے جانے چاہئیں۔
مولانا فضل الرحمان اور صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ دونوں کے ساتھ ذاتی تعلقات موجود ہیں اور انہیں پاکستان کی ترقی اور مختلف صوبوں کے عوام کے لیے کیے جانے والے اقدامات دکھائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کی ترقی کے نتائج سامنے آئیں گے تو بہت سے معاملات خود ہی واضح ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کے خلاف نامناسب گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی اور شہدا کے خون سے غداری کی بات اب نہیں چل سکتی۔ فیصل واوڈا نے سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا کہ اگر کسی جماعت نے دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کیا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں فیصل واوڈا نے کہا کہ اگرچہ نئی صوبائی کابینہ کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع دیا جا رہا ہے، لیکن عوام کو روزگار، معاشی بہتری اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنانا ہوگی۔ تین ڈالر کمانے والے افراد کے مستقبل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کارکردگی دیکھی جائے گی اور عوام کو ڈیلیور کرنا ہوگا۔
نئی آئینی ترمیم، نئے صوبوں کے قیام اور نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مستقبل سے متعلق سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ صحافی ایک کپ چائے پر ان سے تمام باتیں نہیں نکلوا سکتے۔ انہوں نے ان معاملات پر مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی نشاندہی کی تھی کہ بعض لوگ عمران خان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور انہیں سیاسی طور پر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے پر غور کریں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کے پاس اپنے گھر کے ووٹ بھی نہیں ہیں، اس لیے سیاسی قوت کا اندازہ نعروں کے بجائے عملی کارکردگی سے لگایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جمہوریت کہیں نہیں جا رہی، لیکن سیاست میں محض نعروں اور دعوؤں کے بجائے عوامی خدمت کو ترجیح دینا ہوگی۔
پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان کے بچوں کو ملک کی تاریخ اور حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوام کو غیر حقیقی نعروں اور جذباتی بیانیوں کے بجائے پاکستان کی ترقی، استحکام اور قومی مفاد کے حوالے سے واضح سمت فراہم کریں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے زور دیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے، شہدا کے احترام، قانون کی حکمرانی اور معاشی استحکام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت و سیاسی قیادت کو اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں